نئی دہلی،14؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ہندوستان کے سابق اسپنر مرلی کارتک نے کہا کہ روی چندرن اشون بہترین فارم سے گزر رہے ہیں لیکن وقت ہی بتائے گا کہ وہ غیر ملکی سر زمین پر بھی اس کامیابی کو دہرانے کے قابل ہیں یا نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسی جگہوں پر حالات بالکل مختلف ہیں اور ایسے میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔سال 2000سے 2007کے درمیان ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے کارتک نے کہا کہ میں اس پر(بیرون ملک میں اشون کامیاب رہے گا یا نہیں)تبصرہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا،بیرون ملک میں حالات بالکل مختلف ہیں اس لیے وقت ہی بتائے گا۔اشون نے وراٹ کوہلی کے ساتھ مل کر حال میں ہندوستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے جس سے دنیا کی نمبر ایک ٹیم مسلسل پانچ سیریز جیت چکی ہے۔عظیم بلے باز رہے سچن تندولکر نے حال ہی میں گھریلو کرکٹ دو مختلف پچوں پر دونوں اننگز میں دو مختلف گیندوں(کوکابورا اور ایس جی)سے کھیلنے کی تجویز رکھی تھی۔اس خیال کو حال میں ایم سی سی نے مسترد کردیا۔کارتک کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں صرف ایک برانڈایس جی، کیا ڈیوکسا یا کوکابورا کا استعمال ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ کوکابوراہندوستانی حالات میں کام نہیں کرے گی،یہاں کی پچیں گیند کے دوستانہ نہیں ہیں اور 15اوور کے بعد اسپنر ہوں یا تیز گیند باز انہیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔کارتک نے کہا کہ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ دنیا بھر میں صرف ایک گیند کا استعمال ہونا چاہئے جو ہر حالات میں سے موافق ہو،مجھے نہیں پتہ کہ سچن نے کس منظر نامے میں بولا لیکن یہ اس موضوع پر میرا نظریہ ہے۔